فرض شناس پولیس افسر کو ناکردہ گناہ کی سزا کیوں؟

فرض شناس پولیس افسر کو ناکردہ گناہ کی سزا کیوں؟
گذشتہ روز سرگودھا میں ایمبولینس اور اس کے ڈراٸیور کے حولات بند کرنے کا واقعہ پر وزیراعلیٰ کی ایس ایچ او تھانہ ساجد شہید رانا اسد اویس کو معطل کیا تھا اس واقعے کی اصل حقیقت کیا ہے۔کیسے ایک فرض شناس پولیس آفیسر کو اس کے ناکردہ گناہ کی سزا دے دی گٸی۔
یہ واقعہ 2 دسمبر 2020 کا ہے جب ایبٹ آباد سے ڈیڈ باڈی لے کر ایک ایمبولینس سرگودھا آ رہی تھی۔ اڈا جھال چکیاں کے قریب ڈراٸیور نے غلط فہمی میں کہ مذہب معاشروں میں حاکم وقت بھی ایمبولینس کے لیے اپنی گاڑی ایک طرف کر لیتا سامنے جاتی کمشنر صاحبہ کی گاڑی کو ساٸرن دے کر اوور ٹیک کیا جو کمشنر صاحبہ کو گراں گزرا کہ وہ ڈویژن بھر کی مختار کل اور اس کی ریاست میں ایک ایمبولینس ڈراٸیور کی اتنی گستاخی کہ وہ ان سے آگے نکل جاٸیں۔ محترمہ نے گاڑی سے ہی کنٹرول روم کو پیغام جاری کیا کہ متعلقہ ایمبولینس کسی صورت سرگودھا سے باہر نہ نکل پاٸے۔ میڈیم صاحبہ کی شان میں گساخی کا مرتکب ایمبولینس ڈراٸیور جب گرفتار نہ ہوا تو دوسرے روز سخت الفاظ میں کنٹرول روم کو دوبارہ پیغام جاری کیا گیا جس پر آر ٹی سیکرٹری نے مطلوبہ ایمولینس اور اس کے ڈراٸیور کو پکڑ کر اپنے ایک انسپکٹر کے ہمراہ تھانہ ساجد شہید میں بند کر دیا۔ ایس ایچ او تھانہ ساجد شہید کو آگاہ کیا گیا کہ اس ایمبولینس کے ڈراٸیور نے کمشنر صاحبہ کی گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی گستاخی کی ہے اس لیے انہیں حوالات بند کیا جا رہا ہے۔ پولیس کمشنر آفس سے اگلے حکم نامہ کی منتظر تھی کہ اسی دوران یہ خبر میڈیا پر آ گٸی اور پھر میڈیا کے ذریعے تخت لاہور پر براجمان میرے کپتان کے وسیم اکرم پلس یعنی نکے کپتان نے اس واقعہ کا نوٹس لے لیا اور سزا کے طور پر ایس ایچ او تھانہ ساجد شہید رانا اسد اویس کی معطلی کے احکامات جاری کر دیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *